-1.2 C
Washington D.C.

ہم، ہماری فطرت اور بدلتا زمانہ

- Advertisement -

Latest News

- Advertisement -spot_img

اگر اجتماعی طور پر دیکھا جاۓ تو دُنیا میں زبان ،نسل ،رنگ ،لباس اور علاقے یہ ایسی چیزیں ہیں جن میں تفریق کی جاسکتی ہے مگر انسانی سوچ ،انسانی رویے ہر جگہ ایک جیسے ہی ملتے ہیں ہم مشکل سے ہی ان میں کوئی بڑا فرق محسوس کرتے ہیں مثلاً ہر شخص عزت چاہتا ہے ،کامیاب ہونا چاہتا ہے ،آگے بڑھنا چاہتا ہے اور معاشرے میں ایک مساوی سلوک یا برابر حقوق چاہتا ہے۔

زندگی حادثوں سے بچ کر نکلنےکا نام نہیں ہے ، یہ بات تو آپ ذہن سے نکال دیں کہ ہم اچھی منصوبہ بندی کرلیں گے تو ایک پُرسکون زندگی گزار سکے گے ،ہاں کسی حد تک آپ چیزوں کو ہنڈل کرنا سیکھ جائیں گے مگر فطرت کا حصہ ہوتے ہوۓ بھی ہم پر فطرت کی پکڑ اتنی سخت ہے کہ ہم لا شعوری طور پر وہ کرنے لگتے ہیں جو فطرت ہم سے کروانا چاہتی ہے جسکی وجہ سے ہمارے اردگرد ایک تغیر زدہ ماحول بنتا ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ پچھلے لوگوں کے تجربات سے ، علم سے ہمیں سیکھانے کی کوشش کرتے ہیں ،درست ہے ، اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے مگر ہم ایک چیز کے ہاتھوں مار کھاتے ہیں وہ ہے فطرت کا مسلسل تغیر۔

ایسا قرآن پاک میں بھی ہے لیکن قرآن فطرت کی دلیل سے بات کرتا ہے مثلاً قرآن میں ہے کہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو اب قرآن لباس پر بات نہیں کر رہا، انسان پر بات کر رہا کیونکہ لباس بدلتے رہتے ہیں، دیکھیے ضروری نہیں ہے کہ ہر اچھا شخص ہر جگہ پر سچا بھی ہو ، ہو سکتا ہے اُسکا علم مختصر رہا ہو ہمیں اچھی سوچ پکڑنی ہے اور اپنی منزل کی طرف بڑھ جانا ہے باقی اُسکی فطرت اُسکا تجربہ اُسکے ماحول اور زمانے کے مطابق تھا، ہمیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن افسوس ہماری اکثریت ایسی ہے کہ جن لوگوں سے ، خاص طور پر مذہبی لحاظ سے متاثر ہے وہ آنکھیں بند کرکے اُنکی پیروی کو لگی ہوئی ہے۔ دیکھیے آپ کی ذات مختلف ہے، آپ کی فطرت مختلف ہے آپ کا ماحول اور آپ کا دور مختلف ہے جب آپ آنکھیں بند کرکے پیروی پر لگ جاتے ہیں تو آپ خود کو ایک ریموٹ کنٹرول ربورٹ بنا لیتے ہیں پھر ہوتا کیا ہے آپکی فطرت جو بنانے والے نے مسلسل تغیر پر بنائی ہے وہ آپ سے انتقام لیتی ہے آپ کے اندر کا سکون اور ٹھہراو اُٹھا لیا جاتا ہے آپ نے کبھی بندھا ہوا جانور دیکھا ہے وہ اپنی مرضی کا گھاس کھا نہیں سکتا مالک اُسے باسی چارہ دے مالک اُسے جیسا مرضی کھلاۓ وہ وہی کھانے پر مجبور ہوتا ہے مالک اُسے جہاں باندھے گا وہ بندھا رہنے پر بھی مجبور ہوگا کیونکہ اُسکے گلے میں پڑی ہوئی رسی مالک کے ہاتھ تک جاتی ہے ہمارا حال اُن بندھے ہوۓ جانوروں کی طرح ہے ہم نے خوا مخوہ خود کے گلے میں رسیاں ڈال کر کچھ اندھے بہرے لوگوں کے ہاتھوں میں پکڑائی ہوئی ہیں ہمارے ہاتھ میں خدا نے کوڈ آف لائف دیا ہے جسے ہم قرآن کہتے ہیں دیکھیے قرآن فطرت کی کتاب ہے یہ محض خود کو بیان کرتی ہے اور جو کتاب اور فطرت کو پڑھنا جانتے ہیں اُنہیں پتا ہے کہ یہاں شور تو ہوتا ہی نہیں ہے یہ جتنے لوگ نعرے لگانے والے ہیں یہ سب رانگ نمبر ہیں یہ محض شور ہے اور شور میں کچھ سُنائی نہیں دیتا۔

آخر میں ایک چھوٹا سا مشورہ ہے جو ایک اچھے دوست نے کبھی دیا تھا کہ اگر قرآن کی فطرت کو سمجھنا ہے تو زبان کی فطرت کو سمجھنا اور تھوڑے افسوس سے کہنا پڑھتا ہے کہ موجودہ اُردو تراجم ہماری زبان کے زمانوں کا خیال رکھے بغیر کیے جاتے ہیں۔
اُمِ عمارہ

- Advertisement -spot_img

More Articles Like This

- Advertisement -spot_img