15.2 C
Washington DC.
Friday, June 18, 2021

ہم ،ہمارا کلچر اور واقعہِ کربلا

کربلا نا صرف اسلامی بلکہ انسانی تاریخ کا دل خراش واقعہہے ایسا نہیں ہے کہ اِس دُنیا کی ہتھلی پر خون نہیں رکھا گیا یا کربلا سے پہلے کسی نے ظلم نہیں دیکھا مگر کربلا اِس دُنیا کے مکینوں کو اِس لیے یاد رہے گا کہ کرب و بلا میں ایک گروہ حق زادوں کا تھا جو حق پر ہوتے ہوۓ بھی سولی پرلٹکے اور لٹک کر قائم  رہے تھے، یہ قائم رہنا بہت مشکل ہے۔

ہم روزمرہ  اپنی زندگیوں میں چھوٹی چھوٹی کربلا سے نمٹتے ہیں، ہماری آنکھوں کے سامنے کئی  رونے والے روتے رہ جاتے ہیں، ہماری آنکھوں کے سامنے کئی گودیں اُجاڑ دی جاتی ہیں۔ہم کبھیقائم رہتے ہیں اور کبھی قائیم رہنے کی کوشش میں ٹوٹ جاتے ہیں پھر بھی ہمارا صبر صبرِ جمیل نہیں ہوتا۔ہم اپنی آزمائش پر خاموش رہیں تو اپنوں پر چیخ اُٹھتے ہیں۔ ممکن ہے ہمارا صبر ،صبر بھی نہ ہو، لیکن آج کی یہ تاریخ ہمیں درس دیتی ہے کہ جہاں صبر مشکل ہو  وہاں شکر کیسے کیا جاتا ہے۔

کرب وبلا کے واقعہ کو اگر برصغیر میں بدلتی ہوئی ثقافتی نظر سے دیکھا جاۓ تو ہمیں ایک  دلسوز قصہ رواج پاتا ہوا  معلوم ہوتا ہے۔ ہر سال خاص طور پر محرم الحرم کے پہلے دس دنوں میں لوگوں کی بڑی تعداد مجلسوں کا احتمام کرتی ہے۔منتیں مانگی جاتی ہیں سبیلیں لگتی ہیں۔کھانا تقسیم کیا جاتا ہے اور اِس دلسوز واقعہ کو اپنے اپنے طریقے سے بیان کیا جاتا ہے۔

اگرتاریخ کے کچھ اوراک پلٹ دیے جائیں تو ہمیں برصغیر میں اِس واقعہ  کا ذکر محرم کے کچھ مخصوص دنوں تک محدود نظر آتا تھا۔مگر یہ بادشاہوں کی محفلوں میں سُنایا جاتا تھا ، امام بارگاہیں اب کی نسبت محدود تھیں مگر آباد نظر آتی تھیں۔ذوالجناح کے لیے اعلی نسلی گھوڑے خریدے جاتے تھے اُنکی خاص تربیت کی جاتی ہے۔ شاہی طور پر نو دس محرم کے لیے خاص رقوم مختص کی جاتی تھیں۔

ادب کی رو سے دیکھا جاۓ تو میر ببر انیس نے کرب وبلا کو ہندستانی زبان میں پرو کر جو مُرثیے کہے اُن مُرثیوں نے یہاں کے لوگوں میں یہ واقعہ امر کردیا۔ اُسکے بعد جدید شاعری میں بہت سے شاعروں نے اِن واقعات کو بدلتی زبان اور بدلتا کلچر دیا۔

ادبی فکر و نظر سے  اگر تنقید کی جاۓ تو آج کا لکھنے والا بغیر تنقید برداشت کیے اِس واقعہ کی حساسیت کو اپنے لفظوں میں پرو کر داد وصول کررہا ہے، اولین فکروں میں ادب کے وارثوں کو اِس طرف دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے۔ امامِ حسین  رض نے اور اہلِ بیت نے اپنے خون سے، اپنے سروں سے ،اپنے عَلم سے حق وصداقت بلند کی ،ہم لکھنے والوں کی ذمہ داری ہے ہمارے قلم اُس صداقت میں اپنے دُنیاوی نفع کے لیے ردو بدل نہ کریں۔

کرب وبلا صدیوں سے زخمی تاثر کے ساتھ ہمارے دلوں کو نچوڑتا آیا۔ یہ غم صرف اہلِ ایمان کا نہیں ہے بلکہ یہ غم اہلِ  دلوں کا غم ہے ، صرف اہلِ ایمان کا ہوتا تو حضرت زینب رض  کے خطبے سے بہت پہلے کوفے والوں کے دِل لرز جاتے ،یہ غم تاریخ کی کتابوں پر اُتنا نہیں لکھا گیا جتنا یہ غم تاریخ میں نرم دلوں پر لکھا گیا ہے۔رسول ﷺ پر ہماری نسلیں قربان اُنکی نسلوں کو زبح کیا گیا۔ناقابلِ بیان، نا قابل یقین اور ناقابلِ برداشت  ہے مگر تاریخ لکھنے والے نے کُھلی آنکھوں سے لکھا ہے۔

ہمیں سال کے آغاز میں محرم شاید اِس لیے مِلا ہے کہ ہم اِس دِن سےنئی ابتدا کریں ،حسین کا پرچم بلند کرنے والے کو اپنا نفس مارنا پڑے گا ، حسین پکارنے والے کو اپنے گربیان میں جھانکنا پڑے گا کہ وہ جس حق و عدل پر جان دے گۓ وہ اُسکے اندر بھی موجود ہے یا نہیں؟ افسوس کہ
ہم اُنکے نعرے لگانے والے رشوت خور ہیں ،منافق ہیں ،  جھوٹے ہیں اور حریص زدہ ہیں ۔سب سے بڑا عدل سچ بولناہے ،اور ہم ، ہمارے  روزمرہ کے کاروبار جھوٹ پر چلتے ہیں ۔

آئیے اصل حسینیت کو گلے لگائیےوہ بہت بڑی ہستیاں تھیںوہ بہت بڑی آزمائشں تھی اللہ سے پناہ مانگیے ،توبہ کیجیے ،دعا مانگیے اللہ ہم تیرے تھکے ہوۓ کمزور بندے ہیں ہمیں حق پر قائم رکھنا اور ایسی آزمائشوں سے بچانا،  بے شک تو رحم کرنے والا ہے۔

اصل حسینیت اپنے اصل پر قائم رہنا ہے اپنے اندر حسین زندہ رکھیے اور حق کے لیے بولتے رہیے زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر اللہ حق پر قائم رہنے والوں کو قائم رکھتا ہے۔لبیک یا حسین رض۔

- Advertisement -spot_img
- Advertisement -

Latest News

- Advertisement -spot_img

More Articles Like This

- Advertisement -spot_img